اکثر مصائب سے دو چار رہتا ہوں


Image 

اکثر مصائب سے دو چار رہتا ہوں

ہر بار درد میں مسکرا دیتا ہوں

یہ بہادری نہ سہی، کمزوری ہی سہی

 

اکثر احساسات بیان کر جاتا ہوں

ہر بار رو کر اپنی رواداد سنا دیتا ہوں

یہ برداشت نہ سہی، پیار کی پیاس ہی سہی

 

اکثر دھوکا کھا جاتا ہوں

ہر بار لوگوں کے راز چھپا جاتا ہوں

یہ معصومیت نہ سہی، بیوقوفی ہی سہی

 

دو چار رہتا ہوں، بیان کر دیتا ہوں

دھوکا کھا کر چھپا بھی لیتا ہوں

تھوڑا مسکرا کر قسمت پہ رو بھی دیتا ہوں

 

پر پھر بھی اکیلا رہ جاتا ہوں

خدا کو بے بسی میں کہہ بھی ڈالتا ہوں

کہ زندگی نہ سہی، تو پھر موت ہی سہی

رافعہ-

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s